بھارت میں مسلمان عالم دین کا پراسرار قتل
متوفی توصیف رضا مظہری
بھارت میں اپوزیشن جماعتوں کے قانون سازوں نے اتر پردیش میں ایک مسلم عالم دین کے پراسرار قتل غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ واقعے کے حوالے سے متضاد بیانات نے سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بہار سے تعلق رکھنے والے مولانا توصیف رضا مظہری 26اپریل کو ایک مذہبی اجتماع سے واپسی کے دوران بریلی ریلوے اسٹیشن کے قریب ریل کی پٹریوں کے پاس مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ اہل خانہ کا موقف ہے کہ انہیں ٹرین میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں باہر پھینک دیا گیا، تاہم پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو حادثہ قرار دیا تھا۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید نے مسلم عالم دین کی ہلاکت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم حملہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا توصیف نے اپنی آخری ٹیلی فون کال میں خود پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا تھا۔
رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی اور چندر شیکھر آزاد نے بھی واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کے دعوئوں اور پولیس کے موقف میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہے۔
حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی بھارتی حکام سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعے میں کسی قسم کی بد نیتی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاناچاہیے۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ مولانا مظہری کووحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان کی اہلیہ کے مطابق، واقعے سے قبل ایک ویڈیو کال میں انہوں نے حملے کی تفصیلات بیان کی تھیں۔
دوسری جانب، بڑھتے ہوئے عوامی دباو کے پیش نظر بریلی پولیس نے اپنے ابتدائی موقف پر نظر ثانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندان کی شکایت کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں