جنیوا :سکھ فیڈریشن برطانیہ کے زیر اہتمام کانفرنس
بھارتی حکومت کے بیرون ملک سکھ برادری پر حملوں کو اجاگر کیا گیا
فائل فوٹ
جنیوا:سکھ فیڈریشن برطانیہ نے جنیوا میں ایک بین الاقوامی کانفرنس اور پریس بریفنگ کے ذریعے مودی کی ہندوتوا حکومت کی جانب سے بیرون ملک سکھ برادری پر ہونے والے حملوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیاہے۔
رپورٹس کے مطابق "بھارتی بین الاقوامی دباو کا مقابلہ: سکھ مزاحمت اور اقوامِ متحدہ” کے عنوان سے کانفرنس اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 61ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، امریکہ اور سوئٹزرلینڈ سے سکھ رہنمائوں نے شرکت کی۔
کانفرنس میں مودی حکومت کے بیرون ملک سکھ کارکنوں اور اقلیتوں کے خلاف اقدامات، جن میں دھمکیاں، نگرانی، بلیک لسٹنگ اور پاسپورٹ پابندیاں شامل ہیں کو اجاگرکیا گیا ۔شرکا نے مودی حکومت کی طرف سے عالمی سطح پر سکھ برادری پر دباو ڈالنے کے اقدامات کو اجاگر کیااورکہا کہ کئی سکھ کارکن اور اقلیتیں اس دباو کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال کے تحت، بین الاقوامی سطح پرسکھوں کے خلاف دباو میں اضافہ ہوا ہے۔
شرکا نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ ایک خصوصی رپورٹر مقرر کیا جائے تا کہ سکھ برادری کے خلاف عائد پابندیوں اور انکے حقوق کی پامالیوں کو دستاویزی شکل دی جا سکے اور بھارت کی غیر قانونی کارروائیوں پر سخت بین الاقوامی نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔
کانفرنس میں 1984کے سری ہرمندر صاحب پر حملے اورعلیحدہ وطن خالصتان کے مطالبے کے بعد سکھ برادری پر بڑھتے ہوئے دباوکو بھی اجاگر کیا گیا۔ سکھ رہنماوں نے کہا کہ بیرون ملک سکھ برادری سفر کی رکاوٹیںکے باوجود انسانی حقوق اور خود ارادیت کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔
بین الاقوامی قانونی ماہرین اور اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ ایسی کارروائیاں بالکل بھی قابل برداشت نہیں ہیں اور عالمی ادارے اور حکومتیں مل کر بھارت کو جواب دہ بنائیں تا کہ کارکنوں کا تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔
کانفرنس کے مقررین نے نریندر مودی کے اپریل 2024کے بیان "ہم اب دستاویزات نہیں بھیجتے، ہم ان کے گھروں میں جا کر مار دیتے ہیں” کو واضح کرتے ہوئے بھارت میں سکھ برادری کو لاحق خطرے کی شدت کو اجاگر کیا۔
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں