بھارت: مسلمان شخص پرانتہا پسند ہندوتوا گروہ کے بیس افراد کا حملہ

بھارت: مسلمان شخص پر انتہا پسند ہندوتوا گروہ  کے بیس افراد کا حملہ


 مہاراشٹر کے شہر لاتور جانے والے ایک مسلمان مسافر پر تقریباً 20  ہندوتوا انتہا پسندوں  کے گروہ نے حملہ کیا، جنہوں نے  مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسافر کونشانہ بنایا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ملک بھر میں عوامی مقامات پر مسلمانوں کی عدم تحفظ کی صورتحال کو اجاگر کر دیا ہے۔

محمد عمران منماڈ–کاکیناڈا–شردی ایکسپریس میں سفر کر رہے تھے جب یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب ٹرین حیدرآباد کے حافظ پیٹ اسٹیشن پر رکی ہوئی تھی۔ 11 فروری کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ پولیس افسران کو واقعے کی تفصیلات بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو میں عمران کو افسران سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہیں اچانک اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور وہ نہایت تکلیف دہ انداز میں حملے کی تفصیل بیان کر رہے تھے۔

عمران نے کہا کہ جب ان افراد نے ان کی داڑھی اور ٹوپی دیکھی تو انہیں نشانہ بنایا گیا، اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی نمایاں مسلم شناخت ہی حملے کا سبب بنی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے ایک دوست نے انہیں بچانے کی کوشش کی تو اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس سے ڈبے کے اندر صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

   عمران کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آوروں کی شناخت کر سکتے ہیں تاکہ تفتیشی ادارے ان کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کر سکیں


اس تمام صورحال کو دیکھتے ہوئے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں  ہندوتوا انتہا پسند گروہوں کی جانب سے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کے واقعات انتہائی تشویش کا باعث ہیں اور اکثر یہ واقعات حکومتی سرپرستی میں  پیش آتے ہیں جن کے تدارک کے لئے عالمی برادری کو بھارت کے خلاف فوری اقدامات اٹھانے کی فوری ضرورت ہے۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں