بھارت :مغربی بنگال میں ایک اور مسلمان کا بہیمانہ قتل، لاش کے ٹکڑے ندی سے برآمد

 

بھارت :مغربی بنگال میں ایک اور مسلمان کا بہیمانہ قتل، لاش کے ٹکڑے ندی سے برآمد


بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع میں ایک لرزہ خیز واقعے میں ایک مسلمان شخص کو انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی سے متعلق دستاویزات جمع کرانے کے لیے بلا کرقتل کر دیا گیا اور اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے ندی میں پھینک دیے گئے۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول شخص کی شناخت 36سالہ ناصر علی کے نام سے ہوئی ہے جو بدوریا کے علاقے پاپیلا کا رہائشی تھا۔پولیس نے بتایا کہ بدوریا میں ہونے والے جرم کے سلسلے میں ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) اور ایک اور فرد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ناصر 9 فروری کی شام سے لاپتہ تھا۔ اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ اسے اسی شام ایک شخص کا فون آیا جس نے اپنا تعارف ایک اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر (اے آر او) کے طور پر کرایااور کہا کہ وہ اپنے آدھار اور ووٹر شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیوں کے ساتھ فوری طور پر بی ایل او سے ملاقات کرے۔کال موصول ہونے کے بعد ناصر گھر سے نکلا لیکن واپس نہیں آیا۔ گھر والوں نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا فون بند تھا۔ اس کے بعد بدوریا پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی شکایت درج کروائی گئی۔اگلے روز ناصر کی موٹرسائیکل اور جوتے چھتر کے علاقے میں ایک نہر سے برآمد ہوئے تاہم اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔


پولیس نے اس قتل کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر کے سب ڈیویڑنل عدالت میں پیش کیا ، جہاں انہیں پانچ دن کے لئے پولیس کی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔تفتیش کے دوران پولیس نے بدوریا کے علاقے میں مختلف پلوں کے نیچے اور نہروں کی تلاشی لی جس کے نتیجے میں ایک نہر سے تین الگ الگ تھیلوں میں بھرے ناصر کے جسم کے اعضاءبرآمد ہوئے۔

ناصر کی اہلیہ نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ان کے شوہر کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ ۔پولیس نے بتایا کہ قتل کی وجہ معلوم کرنے اور جسم کے باقی اعضا کو برآمد کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں