بھارتی طالب علموں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ،ایک اورطالب علم نے اپنی جان لے لی

بھارتی طالب علموں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ،ایک اورطالب علم نے اپنی جان لے لی


نئی دہلی:بھارت میں طالب علموں میں خودکشی کا رحجان روز بروز بڑھ رہا ہے جہاں سالانہ خودکشی کے 10ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ ترین واقعے میں انتہا پسند بی جے پی کے زیر اقتدارریاست ہریانہ میں
 کمپیوٹر انجینئرنگ کے ایک 19 سالہ طالب علم نے اپنی جان لے لی۔ بھارتی پولیس نے بتایا کہ خودکشی کرنے والے طالب علم کی شناخت انگود شیوا کے نام سے ہوئی ہے جو ضلع کروکشیتر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) میں اپنے ہاسٹل کے کمرے میں چھت کے پنکھے سے لٹکا ہوا پایا گیا۔ وہ پہلے سمسٹر کا طالب علم تھا جو کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ  میں ڈگری حاصل کر رہا تھا اور کیمپس میں ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے کوئی خودکشی نوٹ نہیں ملا۔ 

بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ملک میں طالب علموں کی خودکشی میں اضافہ ہو رہا ہے اور سالانہ 10,000 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔

 مہاراشٹر،تامل ناڈو اور مدھیہ پردیش میں طلباءکی خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات رپوٹ ہوتے ہیں جہاں سب سے زیادہ تعداد 15سے24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ہوتی ہے۔ اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں بہت زیادہ تعلیمی دباو، امتحان میں ناکامی اور دماغی صحت کے مسائل شامل ہیں۔

بھارت میں نوجوانوں کی خودکشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جہاں خودکشی کرنے والے 35%نوجوانوں کی عمریں15سے24 سال ہوتی ہے۔ اعداد و شمار سے طلباءکی خودکشیوں میں مسلسل اضافہ ظاہرہوتا ہے جو 2016 میں 9,478 واقعات سے بڑھ کر 2018 میں 10,159 واقعات تک پہنچ گئے۔ ریاست مہاراشٹر میں طالب علموں کی خودکشیوں کی سب سے زیادہ تعداد (1,834)ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش اور تامل ناڈو کا نمبر آتا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 1995 سے 2019 تک بھارت میں 170,000 سے زائد طلباء نے خودکشی کی وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں۔  ممتاز اداروں میں محدود نشستوں کے لیے سخت مقابلہ،  تناو، اضطراب اور ڈپریشن کا سامنا کرنے والے طلباءکے لیے ناکافی سپورٹ سسٹم خود کشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کی اہم وجوہات میں شامل ہیں

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں