اترپردیش: انتہا پسند مودی حکومت نے ایک اور مدرسہ منہدم کر دیا

 اترپردیش: انتہا پسند مودی حکومت نے ایک اور مدرسہ منہدم کر دیا

بھارت میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے


بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع سنبھل میں انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں قائم بی جے پی حکومت نے اپنے ہندو توا یجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اور مدرسے کو مسمار کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے نرولی میں 285مربع میٹر اراضی پر تعمیر مدرسے کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا۔اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور پورا علاقہ ایک پولیس کیمپ کا منظر پیش کر رہاتھا۔

دریں اثنا نرولی پنچایت کے چیئرمین نے انہدامی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی پیشگی اطلاع یا نوٹس نہیں ملا۔ انہوں نے اس جگہ کو مذہبی مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مدرسہ تقریبا 3سو گز پر محیط ہے اور یہ اسلای تعلیم کا مقام ہے ۔ مدرسے کی مسماری سے علاقے کی مسلم برادری میں شدید بے چینی اور اضطراف پایا جاتا ہے اور پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے ۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں