بھارت میں عیسائیوں پربڑھتے ہوئے حملے ،آل انڈیا کیتھولک یونین کامجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ


بھارت میں عیسائیوں پربڑھتے ہوئے حملے ،آل انڈیا کیتھولک یونین کامجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ


نئی دہلی: بھارت میں عیسائیوں کی تنظیم ”آل انڈیا کیتھولک یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پورے ملک میں عیسائیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور دھمکیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اور قابل اعتماد اقدامات کرے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اے آئی سی یو کے صدر انجینئرالیاس ویز نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا نے اورنفرت کے گہرے ہوتے ہوئے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اتحاد، تعلیم اور اصولی موقف کے ذریعے ایک ایسے بھارت کے لیے کام کرنا چاہیے جہاں تنوع کا احترام کیا جائے اور ہر شہری کے حقوق نفرت اور امتیاز سے محفوظ ہوں۔106 سالہ پرانی تنظیم نے کہاکہ عیسائیوں کو اتر پردیش، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور اڑیسہ سمیت بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں شدید خطرات کا سامنا ہے۔

مذہبی تشدد پر نظررکھنے والی تنظیموں کے مطابق بھارت میں جنوری سے نومبر 2025کے درمیان عیسائیوں کو ہراساں کرنے اور تشدد کے 706واقعات رپورٹ ہوئے۔ اتر پردیش میں سب سے زیادہ 183واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد چھتیس گڑھ میں تقریبا 156واقعات ہوئے۔ان میں جسمانی تشدد اور گرجا گھروں پر حملوں سے لے کر عبادت گزاروں کو ہراساں کرنے اور دعائیہ اجتماعات میں خلل ڈالنے تک کے واقعات شامل ہیں۔ 

کرسمس کے دوران تشدد میں اضافہ ہوااورصرف شمالی بھارت میں 20سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ میڈیارپورٹس میں کیرالہ میں کیرول گلوکاروں پر حملوں، چھتیس گڑھ میں کرسمس کی سجاوٹ کی توڑ پھوڑاور مدھیہ پردیش میں عبادت گزاروں کو ہراساں کرنے کا حوالہ دیاگیا جس میں ایک مقامی سیاسی رہنما کی طرف سے بصارت سے محروم ایک خاتون پر حملہ شامل ہے۔کرسمس کے بائیکاٹ اور تہوار کی اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں کو دھمکیاں دینے والے پوسٹرز بھی
 رپورٹ ہوئے۔

آل انڈیا کیتھولک یونین نے محدود ردعمل پر حکومت پر تنقید کی۔تنظیم نے کہاکہ کرسمس کی تقریبات میں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن اور وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت کے باوجو دتشدد کے خاتمے کی یقین دہانیاں کافی نہیں ہیں۔
 پراسیکیوشن نایاب ہے اور روک تھام کمزور ہے۔
 
 تنظیم نے تشدد کی وجہ سنگھ پریوار سے وابستہ سیاسی کارکنوں اور تنظیموں کی طرف سے نفرت انگیز تقاریر اور تعصب پر مبنی بیان بازی اور 12ریاستوں میں انسداد تبدیلی مذہب قوانین کے غلط استعمال کو قرار دیا۔ فارن کنٹری بیوشن(ریگولیشن)ایکٹ
کے تحت انتظامی دباو کا بھی حوالہ دیا گیا جس سے تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے لئے کام کرنے والی عیسائی این جی اوز متاثر ہوئیں۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں