بھارت :راجستھان میں مسلمانوں کے گھراوردکان مسمار کر دیے گئے
بھارتی ریاست راجستھان کے قصبے چومو میں بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے مکانوں اوردکانوں کو منہدم کر دیا ہے جس سے مسلم کمیونٹی میں شدید غم وغصہ پایاجاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی انتظامیہ اور میونسپل کونسل کی جانب سے کی گئی اس کارروائی سے اقلیتوں کو اجتماعی سزا دینے اور قانون کے غیر مساوی نفاذ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ مسماری کی کارروائی منصفانہ سماعت کے بغیر کی گئی جس میں انکے ذریعہ معاش اور گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ایک دکاندار عبدالرحمن نے جس کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، بتایا کہ کارروائی تیزی سے کی گئی ، جونہی نوٹس دیے گئے ، اسی کے ساتھ بلڈوزر آگئے۔مسلم باشندے انہدام کے وقت اور مقصد پر سوال اٹھاتے ہیں۔
ایک اور مقامی رہائشی محمد سلیم نے بتایاکہ یہ اجتماعی سزا کی طرح لگتا ہے۔اگر پتھراو ہوا ہے تو ملزمان سے نمٹیں۔ گھروں اور دکانوں کو کیوں تباہ کیا؟
یہ واقعہ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں اقلیتوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے تجاوزات کے الزامات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ملبے کے پاس کھڑے متاثرہ خاندان اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اوریہ واضح ہے کہ چومو قصبے میں انصاف کاخون کیاگیا ہے۔
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں