کشمیر بھر میں بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے، احتجاجی ریلیوں کا انعقاد
مظفرآباد: آج بھارت کے نام نہاد یومِ جمہوریہ کے موقع پر ریاست جموں و کشمیر میں یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔ پاسبانِ حریت جموں و کشمیر کی اپیل پر مظفرآباد کے دارالحکومت میں سینکڑوں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
کشمیری مظاہرین نے سیاہ جھنڈے لہرا کر بھارت کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنے قومی اور ریاستی پرچم بھی تھام ہوئے تھے۔ مظاہرین کی جانب سے “بھارتی جمہوریت ہائے ہائے، ڈھونگ جمہوریت ہائے ہائے”، “ہم کیا چاہتے آزادی”، اور “ہے حق ہمارا آزادی” جیسے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت مخالف نعرے درج تھے۔
مظاہرے کی قیادت چیئرمین پاسبانِ حریت عزیر احمد غزالی، عثمان علی ہاشم، اقبال یاسین اعوان، چوہدری محمد مشتاق سمیت دیگر مہاجرین رہنماؤں نے کی۔ عزیر احمد غزالی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “کشمیری عوام کے حقوق چھین کر بھارت کا یومِ جمہوریہ منانا دنیا میں بڑا جھوٹ ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “5 اگست 2019 کو کشمیری عوام سے ریاست و سیاست چھیننے والا بھارت جمہوریت کا سب سے بڑا قاتل ہے” اور واضح کیا کہ “بھارت جمہوری نہیں بلکہ دہشت گرد ملک ہے۔”
عزیر احمد غزالی نے کہا کہ بھارت جان لے کہ جموں کشمیر کے عوام آزادی تک اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر ترجمان وزیراعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر نے بھی کہا کہ “بھارتی مظالم کیخلاف دنیا کو آواز اٹھانی چاہیے” اور “بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔”
پاسبان حریت جموں کشمیر کے زیر اہتمام سینکڑوں مظاہرین نے شہر کی مرکزی شاہراہ پر بھارت کے خلاف مارچ کیا۔ بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر ملک بھر کی طرح وادی نیلم میں بھی یومِ سیاہ منایا گیا، جہاں کنٹرول لائن کی فضا بھی بھارت کے خلاف اور آزادی کے نعروں سے گونج اٹھی۔ وادی نیلم میں بھی مظاہرین نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات واضح کیے اور دنیا بھر کو بھارتی مظالم کی طرف توجہ دلائی۔
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں