بھارت میں نفرت انگیز جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات ، انسانی حقوق کے کارکنوں کا اظہار تشویش

بھارت میں نفرت انگیز جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات ، انسانی حقوق کے کارکنوں کا اظہار تشویش


بھارت میں حالیہ ہفتوں کے دوران مختلف ریاستوں سے نفرت انگیز جرائم کے کئی واقعات کی اطلاع نے انسانی حقوق کے کارکنوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ حملے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹڈ تشدد کے ایک پریشان کن رحجان کی عکاسی کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بہار کے ضلع مدھوبنی میں روشن خاتون کے نام سے ایک مسلمان خاتون کو ہندو ہجوم نے اس وقت پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا جب وہ تنازعہ میں مدد کے لیے گاوں کے سربراہ کے پاس گئی تھی۔ ہندو تواغنڈوں نے اسے ایک کھمبے سے باندھ دیا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، گائے کا پیشاب پینے پرمجبور کیا ۔ بعد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔

راجستھان کے علاقے بھیواڑی میں ایک 28 سالہ ٹرک ڈرائیور عامر خان کو 2 مارچ کی صبح پھلوں کو دہلی لے جانے کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ شاہجہاں پور سمیت اتر پردیش کے کئی حصوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی اطلاع ملی، جہاں انتہا پسند ہندوﺅں نے مسلم باشندوں پر ہولی کا رنگ پھینکا اور ان پر تشدد کیا۔

اتر پردیش کے دارلحکومت لکھنومیں حال ہی میں ایک 13 سالہ انیز خان کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ روزے سے تھا۔ ملزم بی جے پی لیڈر برجیش پاٹھک کا بھتیجا بتایا جاتا ہے۔ ایک اور واقعے میں بہار کے دربھنگہ ضلع میں ایک 65 سالہ شخص۔ اس پر لوہے کی راڈ سے حملہ کیا گیا جس سے وہ موقع پر ہی چل بسا۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں