بھارت امریکا کے معاشی دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا
عالمی فورمز پر غیرجانبداری کے دعوے کرنے والا بھارت امریکی معاشی پابندیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت پر عائد ٹیرف بدستور برقرار ہیں اور ان کے اثرات بھارتی معیشت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے گزشتہ سال اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جو بعض اشیا پر پچاس فیصد تک پہنچ گیا۔ امریکی وزیرِ خزانہ کے مطابق امریکی ٹیرف پابندیوں کے نفاذ کے بعد بھارت نے روس سے تیل کی خریداری میں کمی کی ہے، جسے واشنگٹن اپنی پالیسی کا عملی نتیجہ قرار دے رہا ہے۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ بھارت پر عائد کیے گئے ٹیرف کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر تجارتی دباؤ برقرار رکھا گیا ہے اور اس کے مثبت نتائج دیکھے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی اقدامات کے بعد بھارتی توانائی درآمدات میں تبدیلی آئی ہے، جس میں خاص طور پر روسی تیل کی خریداری میں کمی دیکھی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے ٹیرف پابندیوں کا یہ عمل بھارت کی عالمی اقتصادی پوزیشن اور توانائی درآمدات کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ امریکا کی پالیسیاں بھارت کے تجارتی رویوں میں تبدیلی لانے میں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے ہمیشہ عالمی فورمز پر اپنے غیرجانبدار موقف کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، تاہم امریکی معاشی دباؤ نے بھارت کو اپنی توانائی اور تجارتی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ٹیرف پابندیوں کے نفاذ کے بعد بھارت کی روس سے تیل کی خریداری میں کمی عالمی اقتصادی حلقوں میں بھی زیرِ بحث رہی ہے، اور یہ امریکا کی پالیسیوں کے مثبت نتائج کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں