بھارت: دہلی میں مساجد اور مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنانے کے خلاف احتجاج، کئی افراد زخمی

بھارت: دہلی میں مساجد اور مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنانے کے خلاف احتجاج، کئی افراد زخمی

فوٹو: ویڈیو سکرین گریب

نئی دہلی : بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے ترکمان گیٹ میں سید فیض الہی مسجد اور اس سے ملحقہ قبرستان میں انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کے دوران کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سینکڑوں مقامی باشندے مسجد کے قریب ایک بینکوئٹ ہال اور ڈسپنسری کو مسمار کرنے کے خلاف احتجاج کے لئے جمع ہوئے جنہیں عدالت نے تجاوزات قرار دیا تھا۔
 
پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس ندھین والسن نے اعتراف کیا کہ ایم سی ڈی نے 6اور7جنوری کی درمیانی رات کو مسماری کا پروگرام بنایا تھا اوراس کے لیے پولیس کی نفری تعینات کی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کو قائل کرنے پر بہت سے رہائشی منتشر ہو گئے اورکچھ لوگوں نے مزاحمت کی جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں طبی امداد دی گئی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مسماری کی مہم بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ظلم وجبر کی وسیع پالیسی کی عکاسی کرتی ہے،جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے قانون اور انتظامیہ کو استعمال کیا جارہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں رات کے وقت اور پولیس کی بھاری موجودگی میں کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا جائے اور اختلاف رائے کو دبایا جائے جس سے بھارت بھر میں اقلیتوں کو درپیش خوف ودہشت کے ماحول کی عکاسی ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بھارت میں عدالتی احکامات کے نفاذ کی آڑ میں اقلیتوں کو نشانہ بنانا ایک معمول ہے۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں