مقبوضہ کشمیرمیں شراب کی دوکانوں کا قیام علاقے کی مذہبی، ثقافتی شناخت پر براہ راست حملہ
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شراب کی دوکانیں کھولنے کے فیصلے کے حوالے سے کشمیری رہنماوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں شراب کی فروخت کی منظوری علاقے کی اسلامی روایات کی صریح بے توقیری ہے۔
مسلم اکثریتی علاقے میں شراب کی کھلے عام فروخت کا مقصد غیر اخلاقی رویے کو فروغ دینا ہے ۔غورطلب بات یہ ہے کہ بھارت کے کئی شہروں میں شراب پر پابندی ہے لیکن بی جے پی کی بھارتی حکومت ایک مذموم منصوبے کے تحت اسے مسلم اکثریتی جموں و کشمیر میں فروغ دے رہی ہے۔
شراب کا استعمال اسلام میں سختی سے منع ہے لہذا مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں اسے رواج دینا مسلم اقدار کی خلاف ورزی ہے اور اس سے کشمیر کے دیرینہ سماجی اور اخلاقی تانے بانے کو نقصان پہنچے گا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے شراب کی دوکانیں کھولنے پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے اسکے خلاف سخت احتجاج کا انتباہ دیا ہے ۔انہوں نے سیاحت کے فروغ کیلئے شراب کی دوکانیں کھولنے پر بھارتی قابض بھارتی انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں شراب نوشی کا فروغ کشمیری مسلمانوں کے ایمان اور تہذیب و تمدن حملہ ہے۔
کشمیری تاجروں نے بھی سری نگر میں شراب کی دوکانوں کے خلاف احتجاج کے لیے 3 دن کی ہڑتال اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی دوکانیں کھولنا مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے مکمل طور پر ناقابل قبول ہے
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں
