ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا؛ کینیڈین وزیراعظم


ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا؛ کینیڈین وزیراعظم


کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہاہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ ہم نے بھارت سے ہردیپ سندھ نجرکے قتل کی تحقیقات میں تعاون حاصل کیا، مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کیلئے سکیورٹی تعاون لازمی ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی
کامزیدکہناہے کہ ضمانت نہیں دے سکتے کینیڈا میں بھارت سے منسلک کوئی جرم دوبارہ نہیں ہوگا۔

مارک کارنی نے یہ بات نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو 27 ستمبر کو شائع ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی کے ساتھ سکیورٹی تعاون میں اضافے سے ان خدشات سے نمٹنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کینیڈا اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ مستقبل میں بھارت سے منسلک کوئی جرم کینیڈا کی سرزمین پر پیش نہیں آئے گا۔

کارنی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کینیڈا کئی سال کی سفارتی کشیدگی کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا تھا جب 2023 میں برٹش کولمبیا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کر دیا گیا۔ کینیڈا کے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس وقت کہا تھا کہ کینیڈین انٹیلی جنس اداروں نے نجر کے قتل اور بھارتی حکومتی ایجنٹس کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی ہے۔

بعد ازاں کینیڈین حکام نے کینیڈا میں  مجرمانہ سرگرمیوں کے ایک وسیع تر سلسلے میں بھارتی ایجنٹس کے تعلق کا بھی الزام عائد کیا۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) نے 2024 میں کہا تھا کہ بھارتی حکومت کے ایجنٹس کا کینیڈا میں قتل، آتش زنی، بھتہ خوری اور دھمکیوں سمیت پرتشدد سرگرمیوں سے تعلق پایا گیا۔

کینیڈین حکام نے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے سلسلے میں تین بھارتی شہریوں پر فردِ جرم عائد کی ہے۔ تاہم کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ بعض شواہد قومی سلامتی اور قانونی پابندیوں کے باعث عوام کے سامنے نہیں لائے جا سکتے۔

کارنی کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی تعلقات میں بہتری کے باوجود بھارت سے متعلق سکیورٹی خدشات اب بھی کینیڈا اور بھارت کے تعلقات کا ایک اہم حصہ ہیں۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں