مقبوضہ کشمیر: ہندوتوا انتہا پسند گاؤ رکھشک گروہ کے تعاقب کے بعد نالے میں کودنے والے نوجوان کی لاش 20 روز بعد برآمد

 

مقبوضہ کشمیر:  ہندوتوا انتہا پسند  گاؤ رکھشک گروہ کے تعاقب کے بعد نالے میں کودنے والے نوجوان کی لاش 20 روز بعد برآمد

تنویر کے والد عبدالسلام چوپان کے مطابق، تنویر جموں کی ایک فیکٹری میں بطور ڈرائیور ملازمت کرتا تھا اور تقریباً ایک ماہ بعد اپنے گھر واپس آ رہا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع رمبن میں ہندوتوا انتہا پسند  گاؤ رکھشک گروہ کے اراکین کے تعاقب کے بعد نالے میں کود کر لاپتہ ہونے والے 18 سالہ نوجوان تنویر سلام کی لاش 20 روز بعد برآمد کر لی گئی۔

پولیس اور ایس ڈی آر ایف حکام کے مطابق تنویر سلام کی لاش ہفتے کے روز بشلیری نالے سے تقریباً تین کلومیٹر دور اس مقام سے ملی جہاں وہ 12 اپریل کو لاپتہ ہوا تھا۔ اس کے والد عبدالسلام کے مطابق لاش ایک بڑے پتھر کے نیچے پھنسی ہوئی تھی اور پانی کی سطح کم ہونے کے بعد ریسکیو اہلکاروں کو اس تک رسائی ملی۔

تنویر سلام، جو تحصیل اوکڑال کے علاقے منڈکھل پوگل کا رہائشی تھا، جموں سے دو گائیں اور دو بچھڑے ایک پک اپ گاڑی میں لے کر اپنے گھر واپس آ رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جموں-سری نگر ہائی وے پر ڈگڈول کے قریب دو گاڑیوں میں سوار ہندوتوا انتہا پسند  گاؤ رکھشک گروہ کے اراکین نے اس کا تعاقب شروع کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق ملزمان نے مگھرکوٹ کے مقام پر تنویر کو روک کر  تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد وہ جان بچانے کے لیے سڑک سے بھاگ کر ہائی وے کے ساتھ بہنے والے نالے میں کود گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تنویر کے پاس مویشیوں کی منتقلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جموں کی جانب سے تحریری اجازت موجود تھی اور وہ ان جانوروں کو دودھ کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔

واقعے کے بعد پوگل اور گردونواح کے سینکڑوں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ بلاک کر دی اور ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے علاقے میں ہندوتوا انتہا پسند  گاؤ رکھشک گروہ کے چار اراکین کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار افراد میں سریجیت سنگھ، سندیپ سنگھ، دگ وجے سنگھ اور کیول سنگھ شامل ہیں، جو ضلع رام بن کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ پولیس نے مویشیوں اور پک اپ گاڑی کو بھی تحویل میں لے لیا ہے۔

تنویر ایک فیکٹری میں ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا اور تقریباً ایک ماہ بعد گھر واپس آ رہا تھا۔ اس نے روانگی سے قبل اپنے والد کو فون کر کے اپنی آمد کی اطلاع بھی دی تھی۔

اس واقعہ پر کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق  کا کہنا ہے کہ  یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ ’’گاؤ رکھشا کا زہر‘‘ اب جموں و کشمیر تک پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملزمان کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں