بھارت کشمیریوں کو دبانے کے لیے آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے اسرائیلی ماڈل پر عمل پیرا ہے، سول سوسائٹی


بھارت کشمیریوں کو دبانے کے لیے آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے اسرائیلی ماڈل پر عمل پیرا ہے، سول سوسائٹی


 بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے کارکنوں نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو دبانے اور علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے آبادکاری کے اسرائیلی ماڈل پر عمل 
پیرا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سول سوسائٹی کارکنوں نے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہندوتوا بھارت اور صیہونی اسرائیل کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں کے خلاف جبر، نسل پرستی اور آبادیاتی تبدیلی کی ایک جیسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی مقبوضہ علاقے میں فوجی زمینوں پر قبضے اور دیگر وحشیانہ کارروائیوں کو تیز کر کے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے راستے پر چل رہے ہیں۔

کارکنوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کو کچلنے کے لیے نگرانی، اجتماعی سزا، بلا جواز نظر بندی، گھروں کو مسمار کرنے اور معاشی گلا گھونٹنے کی اسرائیلی تکنیک استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد متعارف کرایا گیا مودی حکومت کا ڈومیسائل قانون اسی آبادکار نوآبادیاتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جو اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنا رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے تبدیل کرنا اسرائیلی پالیسیوں سے متاثر ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کشمیریوں کے گھروں، زمینوں اور دیگر جائیدادوں پر قبضے دراصل انکا معاشی گلا گھونٹنے کی ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے۔

انہوںنے مزید کہا کہ بھارت اور اسرائیل کھلے عام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو بھر پور سیاسی اور فوجی تعاون فراہم کر رہے ہیں جس سے کشمیر اور فلسطین میں قبضے اور جبر کے نظام کو تقویت ملتی ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے عالمی سطح پر سب سے زیادہ مذمت کی جانے والی ریاستوں میں شمار ہوتے ہیں، جس میں بے گناہ لوگوں کا قتل، بلا جواز گرفتاریاں، غیر قانونی بستیوںکی تعمیر نقل و حرکت پر پابندیاں اور سیاسی آزادیوں کو دبانا شامل ہیں۔

سول سوسائٹی کے اراکین نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کو انکا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کریں۔

سول سوسائٹی کے کارکنوں نے خبردار کیا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی تعاون جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے 
لیے سنگین خطرہ ہے۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں