آئی ایف ایف کا مودی حکومت کی ڈیجیٹل آمریت پر اظہار تشویش
بھارت میں ڈیجیٹل حقوق کی علمبردارتنظیم” انٹرنیٹ فریڈم فاونڈیشن“ (آئی ایف ایف) نے بی جے پی حکومت کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قوانین میں مجوزہ ترامیم پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ آن لائن تقاریر پر ایگزیکٹو اختیارات کی خطرناک توسیع اورڈیجیٹل آمریت کی طرف ایک اور قدم ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف سے جاری کردہ آئی ٹی رولز 2021 میں ترامیم کا مسودہ 15 روزہ عوامی مشاورتی مدت ختم ہونے کے بعد 14 اپریل 2026کو سامنے آئے گا جس سے آزادانہ تقریر اور آن لائن پلیٹ فارمز پر دور رس اثرات مرتب ہونگے اوراس میں تبدیلیوں کی محدود گنجائش ہوگی۔
آئی ایف ایف نے بھارتی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہ تبدیلیاں محض وضاحتی ہیں، کہا کہ ان سے آن لائن مواد پر ریاستی کنٹرول نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔ فاﺅنڈیشن نے مسودے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور حکومتی سنسرشپ کو بڑھانے کی کوششوں کے خلاف آئین ہند کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ترامیم میں ڈیٹا کو برقرار رکھنے کی توسیع کی ضرورت، نگرانی کے خدشات بڑھنے اور نگرانی کے اختیارات میں توسیع کی تجویز بھی دی گئی ہے جس سے خبروں یا حالات حاضرہ کے مواد کو پوسٹ کرنے والے انفرادی صارفین بھی حکومتی جانچ میںآ سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ آئی ٹی رولز کی اہم دفعات پہلے ہی عدالتی جائزے کی زد میں ہیں۔ انہوں نے خبردارکیا کہ نئی تبدیلیاں ایک نظرثانی شدہ میکانزم کو دوبارہ متعارف کروا کر عدالتی جانچ کو نظرانداز کرنے کی کوشش ہوسکتی ہیں۔
سینئر صحافی ثمر ہالارنکر نے خبردار کیا کہ ان تجاویزسے بھارت میں آزاد صحافت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔آئی ایف ایف نے کہا کہ یہ ترامیم خاص طور پر آن لائن سیاسی تقاریر، طنزیہ مواد اور وزیر اعظم مودی سمیت قیادت پر تنقیدکرنے والوں کو نشانہ بنانے سمیت حکومت کی طرف سے بڑھتے ہوئے سنسرشپ کے دوران متعارف کرائی گئی ہیں۔آئی ایف ایف نے کہا کہ ہمیں انتظامی اختیارات کی مسلسل توسیع پر تشویش ہے اور یہ اقدامات ڈیجیٹل آمریت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں