ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے بچنے کے لئے نالے میں کودنے والے نوجوان کی تلاش جاری

 

ہندو انتہاپسندوں کے تشدد سے بچنے کے لئے نالے میں کودنے والے نوجوان کی تلاش جاری

تنویر اپنی ماں اور چار بہنوں کا واحد سہارا تھا،علاقے میں شدید غم وغصہ ، لوگ سراپا احتجاج


فائل فوٹو

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع رامبن کے علاقے رامسو میں ہندو انتہاپسندوں کے تشدد سے بچنے کے لئے مقامی نالے میں چھلانگ لگانے والے مسلمان نوجوان تنویر احمد چوپان کی تلاش تیسرے روز بھی جاری رہی جبکہ علاقے کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ تنویر احمد چوپان کا سراغ لگانے کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا منظر نوجوان تنویر احمد چوپان کی والدہ کا ہے جواپنے بیٹے کی جدائی کے غم میں نڈھال ہیں اور آنسووں سے بھری آنکھوں سے بار بار آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ تنویر کی ماں بار بار چیخ رہی ہیں ”مجھے میرا بیٹا واپس چاہیے“۔ تنویر اپنی ماں اور چار بہنوں کا واحد سہارا تھا۔ تنویر کے اہل خانہ اور دیگرعزیز و اقارب بھی غم سے نڈھال ہیں اورامید بھری نگاہوں سے ریسکیو آپریشن کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ واقعہ کے تیسرے روز بھی علاقے میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جہاں ایک طرف سوگ کی فضا ہے تو دوسری جانب لوگوں میں شدیدغصہ پایا جا رہا ہے اور وہ جلد از جلد انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز بھی اس معاملے پر ضلع رامبن میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ واضح رہے احتجاجی مظاہرے اس وقت پھوٹ پڑے جب تنویر احمد چوپان نامی ایک مقامی نوجوان گاڑی میں دودھ دینے والی گائے اور اس کا بچھڑا لے جا رہا تھا کہ مکرکوٹ میں ہندو انتہاپسندوں کے ایک گروپ نے نام نہاد گاﺅ رکشا (گائے کی حفاظت) کی آڑ میں اس کو روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ تنویر جان بچانے کے لیے تیز بہاو والے مقامی نالے میں کود گیا جس کے بعد اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔اس اندوناک حادثے کے بعد ضلع بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تاہم پولیس نے اس سلسلے میں رامسو پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور چار مقامی افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں