بھارت: دہرادون میں مسلم نوجوان پرہندوتوا بلوائی کا حملہ
بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادو ن میں ایک ہندوتوا کارکن کی جانب سے مسلم نوجوان پروحشیانہ تشدد کے واقعے سے مودی کے بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ اور قانون کی عملداری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیومیں مبینہ طور پرہندوتوا تنظیم کالی سینا سے وابستہ بھوپیش جوشی نامی شخص کو ایک مسلم نوجوان پر حملہ کرتے اور نازیبا جملے کستے ہوئے دکھایا گیا ہے۔حملہ آور نے مسلم نوجوان پر ایک ہندو لڑکے کو گائے کا گوشت کھلانے کا الزام لگایا اور متاثرہ نوجوان کی طرف سے تردید کے باوجود اس پر تشدد جاری رکھا اور اسکے خلاف انتہائی توہین آمیز زبان استعمال کی ۔
اس واقعے کے بعد مقامی مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا تا ہے جبکہ پولیس کے ردعمل اور کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایک مقامی شہری نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بغیر ثبوت کے کسی کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتے ہیں اور انتہا پسند عناصر کو تقویت دیتے ہیں۔
شہریوں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آور کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ نوجوان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
سوشل میڈیا پرویڈیو وائرل ہونے کے بعد انصاف اور احتساب کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے جبکہ عوام نے حکام سے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں