نفرت، جھوٹ اور سنسنی ، بھارتی گودی میڈیا بین الاقوامی سطح پر بے نقاب
امریکی تنظیم جینو سائیڈ واچ نے بھارتی میڈیا کے بارے میں تشویشناک رپورٹس جاری کردی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے بڑے میڈیا ادارے بی جے پی کے زیر اثر چل رہے ہیں اور عوام تک حقائق پہنچانے کے بجائے سنسنی خیزی اور سیاسی بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں ۔
جینو سائیڈ واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا نے بی جے پی کی پالیسیوں اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات کی کوریج میں تعصب دکھایا ہے اور حقیقت کو مکمل طور پر پیش کرنے سے گریز کیا گیا ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے بیانیے عوام میں غلط معلومات پھیلانے اور مخصوص گروہوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔
ادھر رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز کی رپورٹ میں بھارت میں صحافتی آزادی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے ۔
تنظیم کے مطابق ملک میں صحافیوں کو محدود آزادی کا سامنا، اور مسلمان مخالف جرائم کی رپورٹنگ کرنیوالے صحافی مقدمات، حراست یا تحقیقات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض میڈیا اداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی سنسنی خیزی اور یکطرفہ رپورٹنگ عوامی رائے پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے اور سیاسی بیانیے کو بلاچیلنج قبول کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میڈیا ادارے ریاستی سرپرستی میں ہندوتوا نظریہ کی ترویج اور مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں معلومات فراہم کر رہے ہیں ۔ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارتی میڈیا کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔
ماہرین اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافتی آزادیاں مضبوط ہونے اور شفاف رپورٹنگ کی حمایت کے بغیر، ملک میں معلوماتی توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا
اس ضمن میں ملکی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھارتی میڈیا کی نگرانی اور اصلاحات کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں