دہرادون میں کشمیری نوجوانوں پر ہندوتوا بلوائیوں کا وحشیانہ حملہ

دہرادون میں کشمیری نوجوانوں پر ہندوتوا بلوائیوں کا وحشیانہ حملہ  

بھارت بھرمیں کشمیری شال فروشوں پرہندوتوا بلوائیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے واقعات اور  ریاست اتراکھنڈ کے شہر دہرادون میں دو کشمیری نوجوانوں پر انتہا پسند ہندوتوا بلوائیوں کے وحشیانہ تشدد کے خلاف مقامی مسلمانوں نے زبردست احتجاج کیاہے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہندوتوا بلوائیوں نے دہرادون کے علاقے وکاس نگر میں دو کشمیری نوجوانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔کشمیری نوجوان شالیں بیچنے کے لیے مقبوضہ کشمیر سے اتراکھنڈ آئے تھے۔انتہا پسند ہندوئوں نے جموں کے رہائشی کشمیری نوجوان دانش اور تابش کو مذہبی اور نسلی تعصب کا نشانہ بنایا اور ان پر پہلگام فالس فلیگ آپریشن سے متعلق قابل اعتراض تبصرے کئے ۔

نوجوانوں کے احتجاج پر ہندوئوں نے ان پر حملہ کر دیا اور وحشیانہ تشدد کیا ۔ حملے میں دونوں نوجوان شدید زخمی ہو گئے ۔

واقعے کے خلاف مقامی مسلمانوں نے وکاس نگر پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا ۔ انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو زخمی حالت میں کندھوں پر اٹھا کر پولیس اسٹیشن کا گھیراو کیا اور مسلمانوں پر ظلم بند کرو جیسے نعرے لگائے۔ 

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اتراکھنڈ میں مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو مسلسل انتقامی کارروائیوں اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے واقعے میں ملوث ہندتوا ارکان کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پر امن طورپر منتشر ہو گئے ۔ 

پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس نے کشمیری نوجوانوں پر حملے میں ملوث ایک ملزم سنجے یادو نام کوگرفتار بھی کیا ہے ۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں